جانور خصی کرنا ... احکام ومسائل 26-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 13, 2020

جانور خصی کرنا ... احکام ومسائل 26-20

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اھلحدیث, اہل حدیث, اہلحدیث, جانور خصی کرنا ... احکام ومسائل,
 

جانور خصی کرنا ... احکام ومسائل

 

تحریر: جناب غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری

اللہ تعالیٰ نے شیطان لعین کا قول نقل فرمایا ہے:

{وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ} (النساء)

’’میں انہیں حکم دوں گا اور وہ تخلیق الٰہی کوضرور بدل دیں گے۔‘‘

یہ پڑھیں:  مسجدیں آباد کرنے کی فضیلت

سیدناعبداللہ بن عباسw فرماتے ہیں کہ اس آیتِ کریمہ سے جانور خصّی کرنے کی کراہت ثابت ہوتی ہے،کیونکہ یہ فعل اللہ کی تخلیق میں بگاڑ کا باعث ہے۔ (تفسیر طبری: ۱۰۴۷۰‘ وسندہ صحیح)

اسی طرح شہر بن حوشب اور امام سفیانؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت ِ کریمہ سے جانور خصّی کرنا مراد ہے۔ (تفسیر طبری: ۱۰۴۷۵، وسندہ صحیح)

عکرمہ تابعیa کے بارے میں ہے:

’’وہ جانوروں کو خصّی کرنا مکروہ سمجھتے تھے۔‘‘ (مصنّف ابن ابی شیبۃ، وسندہ صحیح)

یزید بن ابی حبیبa بیان کرتے ہیں:

’’امام عمربن عبدالعزیزa نے اہل مصر کی طرف خط لکھا جس میں گھوڑوں کو خصّی کرنے اوربچوں کی گھڑ سواری سے منع فرمایا۔‘‘ (مصنّف ابن ابی شیبۃ ۱۲/۲۲۶، وسندہ صحیح)

امام عبدالرزاقaفرماتے ہیں کہ میں نے امام اوزاعیaسے جانور کو خصّی کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:

’’اسلاف ان تمام چیزوں کو خصّی کرنا مکروہ سمجھتے تھے جن کی نسل چل سکتی ہے۔‘‘ (مصنّف عبدالرّزاق: ۴/۴۵۸)

نافعa، سیدنا عبداللہ بن عمرw کے بارے میں بیان کرتے ہیں:

’’آپ خصّی کرنے کو مکروہ جانتے تھے اور فرماتے تھے کہ (خصی نہ کرنا) تخلیق کی تکمیل ہے۔‘‘ (الموطّا للامام مالک، وسندہ صحیح)

امام اسحاق بن منصور مروزیaکہتے ہیں:

’’میں نے کہا کہ کیا جانوروں کو خصّی کرنا مکروہ ہے؟ آپ(امام احمدa)نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ (اعضائے تناسل) تخلیقِ الٰہی کی تکمیل ہیں۔‘‘ امام اسحاقa فرماتے ہیں کہ حق یہی ہے۔ (مسائل الامام احمد بن حنبل و اسحاق بن راہویہ)

یہ پڑھیں:  میت اور نماز جنازہ کے مسائل

یہ تو کراہت کے بارے میں اقوال تھے۔ بعض اہل علم نے خصّی کرنے کی رخصت بھی دی ہے، جیسا کہ

1       امام حسن بصریaفرماتے ہیں کہ بکرے اور دنبے کو خصّی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔(تفسیر الطبری)

2       امام ہشام بن عروہa بیان کرتے ہیں:

’’ان کے والد عروہ بن زبیر تابعیaنے اپنا ایک خچر خصّی کیا تھا۔‘‘ (مصنّف ابن ابی شیبۃ، وسندہ صحیح)

3       امام عطاء بن ابی رباحa گھوڑا خصّی کرنے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، وسندہ صحیح)

دونوں طرف کے اجتہادات کو مدنظررکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ بوقت ضرورت جانور کو خصّی کیا جا سکتا ہے، بغیر ضرورت کے ایسا کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ فعل ہے۔ جیسا کہ امام بیہقیؒ فرماتے ہیں:

’’جب کوئی واقعی ضرورت درپیش ہو تو خصّی کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے تابعین کرام سے روایت کیا۔‘‘ (السّنن الکبریٰ للبیہقی)

تنبیہ بلیغ:  نبی اکرمeسے جانور خصّی کرنے کی ممانعت یا جواز ثابت نہیں۔ اس بارے میں وارد شدہ تمام روایات ضعیف اور ناقابل استدلال ہیں۔ ملاحظہ ہوں:

Ý       سیدنا عبد اللہ بن عباسwبیان کرتے ہیں ؛

’’نبی اکرمe نے جانوروں کو باندھ کر نشانہ بنانے اور ان کو خصی کرنے سے سخت منع فرمایا ہے۔‘‘ (مسند البزّار‘ کشف الاستار، السّنن الکبریٰ للبیہقی)

تبصرہ:  اس کی سند ضعیف ہے،امام زہری مدلس ہیں،سماع کی تصریح نہیں ملی۔

Þ       سیدنا ابن عمرw بیان کرتے ہیں:

’’رسول اللہeنے گھوڑوں اور مویشیوں کو خصّی کرنے سے منع فرمایا۔‘‘ (مسند الامام احمد)

تبصرہ:  اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ عبد اللہ بن نافع مدنی راوی ضعیف ہے۔ حافظ ہیثمیaفرماتے ہیں: [ضعّفہ الجمہور]

’’اسے جمہور محدثین کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔‘‘ (مجمع الزوائد)

ß       سیدنا عبد اللہ بن عمرw سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہeنے فرمایا:

’’اسلام میں خصّی کرنے کی کوئی اجازت نہیں۔‘‘ (السّنن الکبریٰ للبیہقی)

یہ پڑھیں:  حقوق العباد کی اہمیت

تبصرہ:  اس کی سند سخت ضعیف ہے کیونکہ:

1       اس میں عبد اللہ بن لہیعہ راوی ضعیف، مدلس اور مختلط ہے۔

2       اس کا راوی مقدام بن داود رعینی بھی سخت ضعیف ہے۔ (تقریب التہذیب لابن حجرؒ)

امام بیہقیaخود فرماتے ہیں: [فیہ ضعف ] اس میں کمزوری ہے۔

à       سیدنا ابن عمرw بیان کرتے ہیں:

’’رسول اللہeنے اونٹ،بیل، بکرے اور گھوڑے کو خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ افزائش نسل تو گابھن کرنے سے ہی ہوتی ہے۔‘‘ (السّنن الکبریٰ للبیہقی، الکامل لابن عدی)

تبصرہ:  اس کی سند میں جبارہ بن مغلس راوی ضعیف ہے۔ (الکاشف للذہبی، تقریب التہذیب لابن حجر)

حافظ ہیثمیa فرماتے ہیں: [وضعّفہ الجمہور] اسے جمہور محدثین کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (مجمع الزوائد)

á       سیدنا عمرt سے روایت ہے:

’’نبی اکرم eنے جانور خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا: اس(عضو تناسل) میں تخلیق کی افزائش ہے۔‘‘ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، ترجمۃ جُبَارَۃ بن مُغَلَّس)

تبصرہ:  اس کی سند ضعیف ہے۔ اس میں بھی وہی جبارہ بن مغلس راوی ضعیف ہے۔

â       سیدنا ابن عمرwکا بیان ہے:

’’رسول اللہeنے مویشی خصّی کرنے سے منع فرمایا۔‘‘ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، ترجمۃ جبارۃ بن مغلس)

تبصرہ:  اس کی سند بھی جبارہ بن مغلس کی وجہ سے ضعیف ہے۔

ã       سیدنا ابن عمرwسے ہی روایت ہے:

’’نبی اکرمeنے نَر کو خصّی کرنے سے منع فرمایا ہے تاکہ نسل ختم نہ ہو جائے۔‘‘ (الکامل لابن عدی، ترجمۃ سلیمان بن مسلم الخشاب)

یہ پڑھیں:  غرباء ومساکین کو ڈھونڈنے میں مدد

تبصرہ:  اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ اس کے راوی سلیمان بن مسلم خشاب کو حافظ ابن الجوزی اور حافظ ذہبیH نے متہم قرار دیا ہے۔نیز حافظ ذہبی نے اس کی بیان کردہ دو حدیثوں کو من گھڑت کہا ہے۔حافظ ابن عدیa فرماتے ہیں:

’’اس کی بیان کردہ احادیث بہت کم ہیں اور یہ مجہول راویوں جیسا ہے۔‘‘ (الکامل فی ضعفاء الرجال)

امام ابن حبانaفرماتے ہیں:

’’یہ شیخ ہے جو سلیمان تیمی سے وہ روایات بیان کرتا ہے جو اس کی بیان کردہ نہیں ہوتیں۔ اس کی روایت کو بیان کرنا جائز نہیں۔ صرف ماہرین متابعات و شواہد کے ضمن میں ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘ (المجروحین)

حافظ بیہقیa نے اسے لیس بالقوی کہا ہے۔ (شعب الایمان)

حافظ ہیثمیaفرماتے ہیں: [وہو ضعیف جدّا] یہ سخت ضعیف راوی ہے۔ (مجمع الزوائد)

ä       سیدنا ابن عمرw روایت کرتے ہیں:

’’نبی اکرمeنے خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا: افزائش نسل تو نَر سے ہوتی ہے۔‘‘ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، ؍مختصراً)

تبصرہ:  یہ سند من گھڑت ہے۔اس کے راوی عبدالرحمن بن حارث کفرتوئی ملقب بہ جحدر کے بارے میں امام ابن عدیaخود فرماتے ہیں: ’’ یہ احادیث کا چور تھا۔‘‘

اس میں سفیان ثوریa کی تدلیس بھی ہے، سماع کی تصریح نہیں ملی، نیز اس میں ایک اور علت قادحہ بھی ہے۔

å       سیدنا ابن عمرw سے روایت ہے:

’’رسول اللہeنے ہمیں خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا: افزائش نسل تو نَر ہی میں ہوتی ہے۔‘‘ (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی)

تبصرہ:  اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس کے راوی یوسف بن محمد بن سابق قرشی کی سوائے امام ابن حبانaکے کسی نے توثیق نہیں کی، لہٰذا یہ مجہول الحال ہے۔نیز یحییٰ بن یمان کا عبیداللہ سے سماع بھی معلوم نہیں ہو سکا۔

æ       سیدنا ابن عمرw بیان کرتے ہیں:

’’نبی اکرمeنے اونٹ، بیل، بکرے، دنبے اور گھوڑے کو خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا: افزائش نسل تو نَر ہی میں ہوتی ہے۔‘‘ (الکامل لابن عدی)

تبصرہ:  اس کی سند سخت ضعیف ہے کیونکہ

1       اس میں امام ابن عدی کے شیخ محمد بن حسن بن حرب کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔

2       سلیمان بن عمر ا قطع راوی مجہول الحال ہے۔ سوائے امام ابن حبانa کے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔

3       عبد اللہ بن نافع مدنی راوی ضعیف ہے۔ (تقریب التہذیب)

یہ پڑھیں:  اللہ کی رضا والا عمر

ç       سیدنا ابن عمرw بیان کرتے ہیں:

’’رسول اللہeنے مویشی خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ اللہ کی تخلیق منقطع نہ کرو۔‘‘ (الکامل فی ضعفاء الرّجال لابن عدی، ترجمۃ جبارۃ بن مغلس)

تبصرہ:  اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ

1       اس میں موجود راوی حبی بن حاتم جرجرائی کے حالات نہیں مل سکے۔

2       ابومعاویہ ضریر مدلس ہیں اور عن سے بیان کر رہے ہیں۔

è       سیدنا ابن عمرw ہی سے روایت ہے:

’’نبی اکرمeنے خصّی کرنے سے منع کیا اور فرمایا: اس (عضو تناسل) میں تخلیق کی افزائش ہوتی ہے۔‘‘ (الکامل لابن عدی، تاریخ ابن عساکر)

تبصرہ:  اس کی سند سخت ضعیف ہے کیونکہ اس کے راوی یونس بن یونس ابویعقوب افطس کے بارے میں امام ابن عدیaفرماتے ہیں:

’’اس نے ثقہ راویوں سے جتنی بھی روایات بیان کی ہیں، وہ سب منکر ہیں۔‘‘

امام ابن حبانaاس کی ایک روایت کو بے اصل قرار دے کر لکھتے ہیں:

’’افطس جس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہو، اس سے دلیل لینا جائز نہیں۔‘‘ (المجروحین لابن حبان)

البتہ امام دارقطنیaنے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔  (تاریخ بغداد للخطیب، وسندہ صحیح)

حافظ ذہبیaاس کی دو روایات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ان کو بیان کرنے والا ثقہ نہیں ہو سکتا۔ (میزان الاعتدال)

اس روایت کو حافظ ابن عدی (الکامل) اور امام نسائی (لسان المیزان لابن حجر)نے منکر کہا ہے۔

é       سیدنا حارث بن مالکt بیان کرتے ہیں:

’’رسول اللہeنے گھوڑوں کو خصّی کرنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ (تاریخ ابن عساکر)

تبصرہ:  اس کی سند ضعیف ہے۔ اس میں موجود بہت سارے راویوں کے حالات نہیں مل سکے جیسا کہ حافظ ابن حجرa‘ حافظ علائیa سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اس سند کے کئی راوی غیر معروف ہیں۔ (لسان المیزان لابن حجر، ترجمۃ ابراہیم بن غطریف)

ê       سیدنا جابر بن عبداللہw سے روایت ہے:

’’نبی اکرمeنے دو سینگوں والے، چتکبرے اور خصّی مینڈھے ذبح کیے۔‘‘ (مسند الامام احمد، سنن ابی داود، سنن ابن ماجہ)

تبصرہ:  اس کی سند ضعیف ہے۔ محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور عن سے یہ روایت بیان کر رہے ہیں، خصّی کے الفاظ کے ساتھ کہیں بھی سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔

یہ پڑھیں:  عقیدے کی حساسیت اور اس کا تحفظ

تنبیہ۱:  ا براہیم نخعیaبیان کرتے ہیں:

’’سیدنا عمرtنے گھوڑوں کو خصّی کرنے سے منع فرمایا۔‘‘ (مسند علی بن الجعد)

 اس روایت کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ

1       اس میں شریک بن عبداللہ القاضی راوی مدلس ہیں۔

2       ابراہیم نخعی کا سیدنا عمرt سے سماع و لقاء نہیں، لہٰذا یہ قول منقطع بھی ہے۔

سنن کبری بیہقی کی سند بھی ضعیف ہے۔ اس میں عاصم بن عبیداللہ راوی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد للہیثمی، النکت علی کتاب ابن الصّلاح لابن حجر، عمدۃ القاری للعینی)

امام بیہقیaفرماتے ہیں:

’’عاصم کی روایات میں کمزوری ہے۔‘‘ (السّنن الکبریٰ للبیہقی)

تنبیہ۲:  خصی جانور کی قربانی بالاجماع جائز ہے،خصی ہونا قربانی کے لیے مانع نہیں، امام احمد بن حنبلa خصی جانور کی قربانی کے بارے میں فرماتے ہیں ؛

’’اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ (مسائل الامام احمد و اسحاق بن راہویہ روایۃ اسحاق بن منصور الکوسج)

علامہ ابن قدامہ مقدسیa بیان کرتے ہیں:

’’اس میں اختلاف معلوم نہیں۔‘‘ (المغنی)

خصی جانورموٹا تازہ ہوتا ہے،اس کا گوشت انتہائی عمدہ اور نفیس ہوتا ہے۔

یہ پڑھیں:  رشتوں کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟!

تنبیہ۳:  مشہور مفسر علامہ قرطبیa لکھتے ہیں:

’’مسلمانوں کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ انسانوں کو خصّی کرنا حلال اور جائز نہیںکیونکہ یہ مثلہ اور تخلیق الٰہی میں تبدیلی ہے۔ اسی طرح حدود و قصاص کے علاوہ انسانوں کے باقی اعضاء کو کاٹنا بھی حرام ہے۔‘‘ (احکام القرآن للقرطبی)


No comments:

Post a Comment

Pages