جماعتی یادوں کے امین ...مدیر اعلیٰ بشیر انصاری مرحوم 26-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 13, 2020

جماعتی یادوں کے امین ...مدیر اعلیٰ بشیر انصاری مرحوم 26-20

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اھلحدیث, اہل حدیث, اہلحدیث, جماعتی یادوں کے امین ...مدیر اعلیٰ بشیر انصاری مرحوم,
 

جماعتی یادوں کے امین ...مدیر اعلیٰ بشیر انصاری مرحوم

 

تحریر: جناب ڈاکٹر سعید احمد چنیوٹی

۴ ستمبر کو ایک دانشور‘ کہنہ مشق صحافی‘ جماعتی تاریخ کے امیں ورازداں جناب محمد بشیر انصاریa ہم سے جدا ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

یہ پڑھیں:  صحافتی افق کا درخشاں ستارہ ... مدیر اعلیٰ بشیر انصاری مرحوم

اس طرح ایک عہد اپنے پیچھے عہد ساز تعمیری سوچ چھوڑ گیا جس پر چل کر تہذیبیں نکھرتی ہیں‘ جن اساسوں پر تاریخ کی عمارتیں استوار ہوتی ہیں‘ ان کی شخصیت کے کئی قدر آور پہلو تھے اور ہر پہلو منفرد‘ جداگانہ تھا۔ ان کے اندر دانش ومعرفت‘ سنجیدگی‘ دھیما پن‘ محبت واخلاص کے دروازے کھولتا تھا۔ درحقیقت جس طرح پھول میں یکسانیت نہیں ہوتی‘ رنگ برنگے پھول کاروبار گلشن کی دلکشی میں اضافہ کرتے ہیں‘ اسی طرح ان کی شخصیت کے علمی وادبی پہلو گلستان صحافت کو مہکائے ہوئے تھے۔

جناب محمد بشیر انصاریa نے فن صحافت محض شغل اور روز مرہ کے معمولات تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے صحافت کو مذہبی دینی نقطہ نظر سے دیکھا‘ صحافت کو مشن بنا کر زندگی گزاری‘ اپنی تحریروں میں اخلاقی‘ اصلاحی‘ ملی‘ تربیتی تقاضوں کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ان کی تحریروں میں جماعت کی محبت‘ مسلک سے عقیدت‘ اور احباب جماعت کی چاہت کا رنگ نمایاں تھا۔

مسلکی نقطہ نظر سے صحافت کی تاریخ کو جمع کیا‘ انتہائی کدو کاوش کے ساتھ ۷۰ سالہ صحافت کے تمام گمنام رسائل کے اجراء‘ مقام‘ سن اشاعت اور مدیر کے حالات وواقعات تک کھوج لگا کر انہیں صفحہ قرطاس پر منتقل کیا۔

’’اہل حدیث صحافت پاکستان میں‘‘ کے عنوان سے ۱۸۶ صفحات پر مشتمل کتاب جس میں وطن عزیز میں ۱۹۴۷ء سے تا دم تحریر اہل حدیث رسائل جو جاری ہیں یا مرور ایام سے بند ہو چکے ہیں۔ ان کی تاریخ اجراء‘ اہداف اور مدیران محترم کے حالات زندکی قلمبند کرنے کی کامیاب کوشش ہے جو اس سے قبل نہ ہو سکی۔ یہ منفرد اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔ اور مستقبل میں وہ برصغیر پاک وہند کے اہل حدیث رسائل‘ جرائد اور ان کے مدیران محترمین کے حوالے اسے توسیع دینا چاہیے۔مگر ان کی صحت نے اجازت نہ دی‘ لیکن اس کے باوجود انہوں نے مندرجہ ذیل تالیفات بطور یادگار چھوڑی ہیں۔ 1 تحریک اہل حدیث افکار وخدمات 2 مشاہیر کے خطوط (اول ودوم) 3 ارمغان ظہیر 4 خالص توحید 5 حج وعمرہ (انگلش) وغیرہ۔

یہ پڑھیں:  سوانح وخدمات ... حافظ محمد صدیق خلیل

جناب محمد بشیر انصاری مسلکی تاریخ جماعتی نشیب وفراز کے امین تھے۔ بلا ضرورت گفتگو‘ تعلی اور خود نمائی کے خواہاں نہ تھے۔ کابینہ اور عاملہ کے اجلاسوں میں ملک بھر سے آئے ہوئے مہمانوں سے مناسب گفت وشنید کے بعد اپنی ذمہ داری نبھانے کی فکر میں ہوتے۔ اسی طرح آل پاکستان کانفرنس کے اجلاسوں کی کارروائی اور تمام نشستوں کے مقررین کے ا سماء گرامی اور ان کے منتخب خطابات کو مرتب کر کے مجلہ کی زینت بنانا فرض سمجھ کر نبھاتے۔ وقت ضائع نہ کرتے۔ انہوں نے اپنی صحافت کا رخ بھی مسلکی اور جماعتی افکار کی طرف ہی رکھا۔ تصنیف وتالیف‘ انشاء پردازی‘ تحریر وتسوید‘ تمام تر جماعتی اور مسلکی ہی تھا۔

’’الاسلام‘‘ ڈائری ان کی فکر کی ایجاد اور جماعتی انفرادیت اور امتیاز کا نشان ہے۔ جس کا آغاز دفتر جمعیۃ اہل حدیث پاکستان ۵۰ لوئر مال روڈ سے حضرت علامہ مرحوم کی تحریک پر ہوا۔ ۱۹۸۵ء سے اب تک یہ تسلسل جاری رہے۔ یہ ڈائری ان کی زندگی کی شناخت اور تعارف تھا۔ الاسلام ڈائری کا عنوان اور بشیر انصاری کا نام لازم وملزوم بن گئے۔

پورا سال ڈائری کی تیاری کے لیے رابطے‘ اشتہارات کے سلسلہ میں سرگرم رہتے۔ یہ ڈائری محض تاریخ وسنین تک محدود نہ تھی بلکہ ملک بھر کی مشہور مساجد اور مدارس کی فہرست‘ علماء‘ خطباء‘ شیوخ اور مشاہیر اہل علم کے رابطہ نمبر اس میں درج ہوتے۔ اسی طرح مرحومین اسلاف کے وفات کی تاریخ بالترتیب لکھی گئی ہیں۔ جماعتی تاریخ پر لکھنے والا اس ڈائری سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔

جب سے حضرت علامہ صاحب کی تحریک پر الاسلام ڈائری کا آغاز ہوا تو اس کی اشاعت وترویج میں مستقل خریدار بن کر بلکہ بیسیوں کی تعداد میں احباب جماعت تک اس کی پذیرائی کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ یہی وجہ ہے کہ انصاری صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی تو پرانے تعلق دفتر‘ ۵۰ لوئر مال روڈ لاہور کی یادوں کے حوالے سے عزت واحترام دیتے‘ اس عہد رفتہ کا پاس رکھتے۔

یہ پڑھیں:  شیخ الحدیث مولانا عبدالمنان سلفی (نیپال)

ان سے بالمشافہ آخری ملاقات ۴ جنوری کو ان کے دفتر میں ہوئی۔ آداب ضیافت کے بعد فرمانے لگے کہ پریس سے الاسلام ڈائری آ رہی ہے۔ آپ براہ کرم اپنی ڈائری اور فیصل آباد میں حضرت مولانا ارشاد الحق اثریd اور الجامعہ السلفیہ کی ڈائریاں بھی دستی لیتے جائیں۔ ہمارا ڈاک خرچ بچ جائے گا۔ المختصر حضرت انصاری صاحب کی زندگی ہر اعتبار سے قابل رشک تھی اور جامع الاوصاف تھے۔ جماعت کی مرکزی قیادت کا احترام واعتماد دفتر کے عملہ سے محبت وپیار‘ مہمانوں کی ضیافت‘ خندہ پیشانی سے مسکراتے ہوئے استقبال کی عادت۔ ایسے اوصاف حمیدہ دور حاضر میں نادر وناپید ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں کو معاف فرما کر اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

Pages