رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ 26-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 13, 2020

رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ 26-20

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اھلحدیث, اہل حدیث, اہلحدیث, رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ,

رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ

 

تحریر: جناب مولانا امیر افضل اعوان

تاریخ انسانی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے توبخوبی احساس ہوتا ہے کہ خاتم الانبیاء، احمد مجتبیٰ e ایسی عظیم المرتبت ہستی ہیں کہ جن کا ابد سے ازل تک نہ کوئی ثانی تھا، نہ ہے اور نہ ہی ہوگا، آپ e کے اوصاف حمیدہ پر نظر ڈالی جائے توعلم ہوتا ہے کہ جو اوصاف آپ e کی ذات بابرکت میں یکجا تھے وہ قدرت نے نسل آدم میں کسی کو بھی اس جامع شکل میں ودیعت نہ کئے ، تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالی جائے اور ساڑھے چودہ سو سال پیچھے کا سفر کیا جائے تو عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے کہ جہاں ہمارے پیارے رسول e اپنے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ جلوہ نما ہیں ، غور فرمائیں فتح مکہ کا منظر ، کفار عالم پر غلبہ اسلام کے لمحات اور رحمت للعالمین eکا عفوودرگزر، بدلہ کی قدرت رکھتے ہوئے ناقابل معافی دشمنوںکو امان دی جارہی ہے، تھوڑاپیچھے کا سفر اور وادی طائف کا نظارہ کریں، خون میں ڈوبے ہوئے وجود اطہر کے ساتھ دعائیں دی جارہی ہیں، المختصر یہ کہ رسول کریم e کی حیات مبارکہ کا ہرہر گوشہ ایسے ہی قربان جانے والی صفات سے مزین نظرآتا ہے کہ غیر مسلم بھی آپ e کی شان اقدس میں لب کشائی اور مدح سرائی پر مجبورہو جاتے ہیں۔

یہ پڑھیں:  نبی کریمﷺ کے شمائل وفضائل کا دفاع

چشم فلک نے ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا کہ جو نبی کریم e کی سیرت طیبہ کی صورت میں سامنے آتا ہے، بادشاہ ایسے کہ پوراملک ان کی مٹھی میں ہو اور بے اختیاری ایسی کہ خود کو بھی اپنے قبضہ میں نہ جانتے ہوں بلکہ اللہ کے قبضہ میں سمجھتے ہوں، دولت مند ایسے کہ خزانے کے خزانے اونٹوں پر لدے ہوئے ان کے دارالحکومت میں آرہے ہوں اور ضرورت مند ایسے کہ مہینوں ان کے گھر چولہا نہ جلتا ہو اور کئی وقت ان پر فاقے گزر جاتے ہوں، سپہ سالارایسے کہ مٹھی بھر نہتے آدمیوں کو لے کر غرق آہن فوجوں سے کامیاب لڑائی لڑی ہو، صلح پسند ایسے کہ ہزاروں پر جوش جاں نثاروں کی ہمرکابی کے باوجود صلح کے کاغذپر بے چوں و چراں دستخط کردیتے ہیں، شجاع ایسے کہ ہزاروں کے مقابلہ میں اکیلے کھڑے ہوں اور نرم دل ایسے کہ انسانی خون کا ایک قطرہ بھی اپنے ہاتھ سے نہ بہایا ہو، باتعلق ایسے کہ عرب کے ذرہ ذرہ کی ان کو فکر ، بیوی بچوں کی ان کو فکر، غریب و مفلس کی ان کو فکر، خدا کو بھولی ہوئی دنیا کو سدھارنے کی ان کو فکر، غرض سارے جہاں کی ان کو فکر ہو اور بے تعلق ایسے کہ اپنے خدا کے سوا کسی اور کی یاد ان کو نہ ہو اور اس کے سوا ہر چیزان کے لئے بے معنی ہو۔

تاریخ گواہ ہے کہ آپ eنے اپنی ذات کے لئے برا کہنے والوں سے بدلہ نہیں لیا اور اپنے ذاتی دشمنوں کے حق میں دعا خیر کی اور ان کا بھلا چاہا لیکن اللہ کے دشمنوں کو آپ e نے کبھی معاف نہ کیا، رسول کریم e غزوات میں فتح کے بعد بھی کسی کو اعتدال سے گزرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ، فتح خیبر کے موقع پر ایسی ہی صورتحال سامنے آئی تو یہودیوں کا ایک گروہ شکایت لے کر آپ e کی خدمت میں حاضر ہوا ، حدیث مبارکہ میں اس کا بیان یوں ملتا ہے:

سیدنا خالد بن ولیدt روایت کرتے ہیں کہ میں حضور اکرم e کے ساتھ جہاد میں شریک تھا خیبر کے موقع پر، آپ eکے پاس خیبر کے یہود آئے اور شکایت کی کہ لوگوں نے ان کے جانوروں کے باڑے جلدی میں لوٹ لیے ہیں تو رسول اللہ e نے فرمایا کہ ’’خبردار! ذمی کافروں کے اموال ناحق لینا جائز نہیں۔‘‘ (ابوداؤد: ۳/۴۱۴)

توجہ فرمائیے کہ رحمت للعالمین e کس طرح اپنے دشمنوں کو بھی معاف کرتے رہے اور ان کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کیا گیا، فتح مکہ کے موقع پر نبی پاک e کے سامنے وہ لوگ تھے جن کے دامن ماضی پر عداوت اسلام کے سینکڑوں دھبے تھے ، رسول اللہ e کا ایک  ہی اشارہ ان کی گردن زنی کیلئے کافی تھا لیکن رحمت عالمe کے کرم کی ایک موج ان کی سیاہ کاریوں کو بہا کر لے گئی ، فرمایا آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں ، جائو تم آزاد ہو، نبی کریم e کے اس حسن سلوک کا یہ نتیجہ نکلا کہ آپ e کی جان کے دشمن آپ e پر جان قربان کرنے والے بن گئے ۔

یہ پڑھیں:  سلسلہ سیرت ... نبی کریمﷺ کا بچپن

حسن سلوک کی ایک مثال ثمامہ بن اثالt کے قبول اسلام کے واقعہ سے بھی ثابت ہوتی ہے، ثمامہ اسلام کا بدترین دشمن تھاجب اسکو آپ e کے سامنے پیش کیا گیا توآپ e نے اسے بغیر سزا کے معاف کردیا جس پر وہ مشرف بہ اسلام ہوگیا، اسی طرح اللہ کے رسول e نے عکرمہ وصفوان بن امیہ اور ابو سفیان ؓکے ساتھ حسن اخلاق کا برتائو کیا‘ اسی طرح کی رواداری کی دیگر مثالیں ہیں جو اس بات کی شاہد ہیں کہ آپ e کے حسن سلوک سے کئی مشرکین عرب دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے،حیات مبارکہ کا مطالعہ کریں تو عین اس وقت جب ان پر ایک تیغ زن سپاہی کا گمان ہوتا ہے تو وہ ایک شب زندہ دار زاہد کی صورت میں جلوہ نما ہوتے ہیں، عین اس وقت جب ہم ان کو شاہ عرب کہہ کر پکارنا چاہتے ہیں تو وہ کھجور کی چھال کا تکیہ لگائے چٹائی پر کسی درویش کی طرح بیٹھے نظر آتے ہیں، عین اس وقت جب اطراف عرب سے آآ کر ان کے صحن مسجد میں مال و اسباب کا انبار لگا ہوتا ہے تو ان کے گھر فاقہ کی تیاری ہورہی ہوتی ہے، عین اس عہد میں جب لڑائیوں کے قیدی مسلمانوںکے گھروں میں لونڈی، غلام بن کر بٹ رہے ہوتے ہیں، فاطمہ ؓ بنت  رسول اللہe اپنے ہاتھوں کے چھالے اور اپنے کندھوں کے نشان دکھا کر غلام کی خواہش کرتی ہیں توآپ e ان کو خالی ہاتھ واپس موڑ دیتے ہیں ( اور اس کی جگہ سونے سے پہلے بستر پر لیٹتے ہوئے ۳۴ بار اللہ اکبر، ۳۳ بار سبحان اللہ اور ۳۳ بار الحمد للہ پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں)۔

 عین اس وقت جب آدھا عرب آپ e کے زیر نگیں آچکا ہوتا ہے تو حضرت عمر ؓ دربار نبوت میں حاضر ہوکر کاشانہ نبوت کا جائزہ لیتے ہیں توآپ e ایک کھردری چٹائی پر آرام فررہے ہوتے ہیں کہ جس کی وجہ سے جسم مبارک پر نشان پڑ گئے ہیں، ایک طرف مٹھی بھر جو رکھے ہوئے ہیں تو دوسری طرف پانی کا مشکیزہ لٹک رہا ہے، حضرت عمر ؓ یہ حالت دیکھ کر رو پڑتے ہیں ، سبب دریافت ہوتا ہے تو حضرت عمر ؓ  فرماتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول e! اس سے بڑھ کر اور رونے کا مقام کیا ہوگا کہ قیصر وکسریٰ باغ و بہار کے مزے لوٹ رہے ہیں اور آپ e اس حالت میں ہیں، ارشاد ہوتا ہے کہ عمر ؓ ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ قیصر وکسریٰ دنیا کے مزے لوٹیں اور ہمیں آخرت کی سعادت حاصل ہو ۔

یہ پڑھیں:  سلسلہ سیرت ... نبی کریمﷺ کا بچپن

یہود و نصاریٰ اور غیر مسلموں نے اسلام اور پیغمبر اسلام e کے متعلق جو زہر اگلا تاریخ کے اوراق ان سازشوں اور حربوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن اس حقیقت سے قلب و جان جھومنے لگتا ہے کہ ہر دور کے اندر غیر مسلم دانشوروں اور مصنفین نے بھی اپنا بہترین اثاثہ فکر بارگاہ سرور کونین e میں پیش کیا، ’’رویندر جین‘‘ کا یہ شعر اس صورتحال کی بھر پور عکاسی کرتا ہے:

آپ کے ماننے والوں میں ضروری تو نہیں

صرف شامل ہوں مسلمان رسول اکرم e

سید سلیمان ندوی کے خطباتِ مدراس میں ایک ہندو کی اپنے مسلمان استاد سے گفتگو کا نقشہ انہی الفاظ میں کھینچا گیا ہے،ہندوستان کے ماہر تعلیم بی ایس کشالپہ کہتے ہیں کہ

’’مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ بلاشبہ محمدe ایک سچے پیغمبر تھے، اس سچے محمدe کے بارے میں اس سے پہلے میرے دل میں جس قدر بدگمانیاں تھیں، میں روح محمد e سے اس کی معافی چاہتا ہوں اور بلامبالغہ کہتا ہوں کہ آج دنیا میں کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ محمد e کے کریکٹر پر ایک دھبہ بھی لگائے۔‘‘

نامور مستشرق جان ڈیوڈ اپنی کتاب’’ محمد (e) اور قرآن سے معذرت ‘‘ کے دیباچہ میں یوں رقم طراز ہیں:

’’اس کتاب کے لکھنے کا مخلصانہ مقصد یہ ہے کہ محمد e کی سوانح حیات کو جھوٹی تہمتوں اور ناروا الزامات سے پاک کیا جائے اور آپ e نے مخلوق عالم کی فلاح وبہبود کے لئے جو کچھ کیا ہے اسے اچھی طرح آشکار کیا جائے۔‘‘

ہندوستانی چرچ بمبئی کا پادری اسلام کے قانو ن صلح و جنگ بارے لکھتا ہے کہ

’’جنگ عام طور پر بری سمجھی جاتی ہے مگر اسلام نے جنگ کے لئے اعلیٰ اصول پیش کئے ہیں۔‘‘

انقلاب فرانس کے بانی روسو کا کہنا ہے کہ

’’حضرت محمدe ایک منصف دماغ رکھنے والے انسان اور بلند مرتبہ سیاسی مدبر تھے، انہوں نے جو سیاسی نظام قائم کیا ، وہ نہایت شاندار تھا۔‘‘

یہ پڑھیں:  سلسلہ سیرت ... عظمت مصطفیٰﷺ

دیوان چند شرما کا کہنا ہے کہ

’’محمدe محبت واخوت، ہمدردی و رحمدلی، لطف وکرم، شفقت و مروت کا پیکر اور روح تھے، ان کی روحانی قوت کی تاثیر ان کے صحابہ ؓ کے لئے ناقابل فراموش تھی۔‘‘

رسالہ ’’ست اپدیش‘‘کا ایڈیٹر اپنے خیالات کااظہار اس طرح کرتا ہے کہ

’’عام خیال یہ ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلا مگر ہم اس رائے سے موافقت کا اظہار نہیں کرسکتے کیوں کہ زبردستی جو شے ظالم کو دی جاتی ہے، وہ ظالم سے واپس بھی لے لی جاتی ہے اگر اسلام کی اشاعت جبر کے ساتھ ہوتی تو آج اسلام کا نام و نشان باقی نہ رہتا لیکن ایسا نہیں ہوا ، ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام دن بدن ترقی کررہا ہے۔‘‘

واشنگٹن کے مسٹر ارونگ کا کہنا ہے کہ

’’اچھے دنوں میں بھی محمد e نے وہی انداز زندگی رکھا جو غریبی کے دنوں میں تھا، انہیں شاہی شان و شوکت پسند نہ تھی۔‘‘

مسٹر نکلسن ڈی کوجے کہتا ہے کہ

’’حضرت محمد e کی سنجیدگی، عظمت، دانائی اور میانہ روی ہی وہ خصوصیات ہیں جو عرب کے تند خو لوگوں میں بہت کم پائی جاتی ہیں‘‘۔

روسی مصنف کونٹ ٹالسٹائی کہتا ہے کہ

’’آپ e امت کو نور حق کی طرف لے گئے اور اسے اس قابل بنادیا کہ وہ امن و سلامتی کی دل دادہ  ہوجائے، زہد و پاکیزگی کی زندگی کو اپنائے، آپ e نے آکر انسانی خو نریزیاں بند کیں اور دنیا میں حقیقی ترقی اور تمدن کی راہیں کھول دیں، ایسے محیر العقول کارنامے صرف ایسی ہی ہستی انجام دے سکتی ہے کہ جس کے ساتھ کوئی پوشیدہ طاقت کام کررہی ہو اور بلاشبہ ایسی ہی ہستی عظمت واحترام کی مستحق ہے۔‘‘

یہ پڑھیں:  سلسلہ سیرت ... تاریخ ولادت رسول ﷺ

ریمنڈ لیراج کہتا ہے کہ

’’پیغمبر عربی e اس معاشرتی اور بین الاقوامی انقلاب کے بانی ہیں جس کا سراغ اس سے قبل تاریخ میں نہیں ملتا۔‘‘

ڈاکٹر جے کا رام کا کہنا ہے کہ

’’حضرت محمدe نے اخلاق  عالیہ کہ تلقین ہی نہیں کی بلکہ ان اصولوں پر عمل بھی کیا، ان کی زندگی ایثار وقربانی کی زندگی ہے۔‘‘

لا مارٹن کا کہنا ہے کہ

’’محمد e ایک فلاسفر، خوش بیاں خطیب، قانون دان، شجاع مجاہد، نظریات کا فاتح، مذہبی اعتقادات کو منطق اور عقل کی بنیادوں پر کھڑا کرنے والے اورروحانی سلطنت کے بانی تھے۔‘‘

بو سورتھ سمتھ کا کہنا ہے کہ

’’ اگر کسی ایک فرد کو یہ کہنے کا حق دیا جائے کہ کس نے صحیح طریقے سے حکومت کی ہے توصرف اور صرف ایک نام سامنے آتا ہے اور وہ ہے محمد e کا، انہوں نے عرب کا رخ بدل دیا ، ایک انقلاب آگیا، انقلاب بھی کیسا؟ ایسا انقلاب کہ آج تک کسی سرزمین پر نہ آیا ، مکمل ترین، تیز ترین اور سراسر غیر معمولی انقلاب‘‘ ۔

کچھ عرصہ قبل نسل انسانی کی تاریخ سامنے رکھتے ہوئے ان کی درجہ بندی کی گئی تو ترقی یافتہ اقوام اور متعصب ذہن نہ چاہتے ہو ئے بھی ہمارے پیارے رسولe کو نسل انسانی میں سب سے اول مقام پر سرفراز کرنے پر مجبور ہوگئے ، درجہ بندی کرنے والے مائیکل ایچ ہارٹ کچھ یوں رقم طراز ہیں کہ

’’شاید کچھ لوگ تعجب کریں کہ میں نے تاریخ انسانی کے ۱۰۰ مؤثر ترین انتہائی ذہین و فطین اور عظیم ترین شخصیات میں محمد e کو سرفہرست کیوں رکھا ہے اور شاید قارئین مجھ سے اس کی وجہ بھی پوچھیں ، مجھے تاریخ میں صرف وہی ایک ایسے انسان ملے جو دینی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں غیر معمولی طور پر کامیاب رہے۔‘‘

اس کے علاوہ دنیا کی نامور شخصیات میں برطانوی جاسوس ہمفرے، تھامس کارلائل، نیولین بونا پارٹ، ڈاکٹر ڈی رائٹ، کونٹ ٹالسٹائی، ڈاکٹر ای اے فریمن، ڈاکٹر لین پول، ڈاکٹر بدھ سنگھ دہلوی، سوامی برج نارائین سنیاسی بی اے، بابو جگل کشور کھنہ، بی ایس رندھاوا ہوشیار پوری، سامی لکشمن رائے،گاندھی، ڈاکٹر شیلے، میجر آرتھ گلن لیونارڈ، فر فلیکڈ، کمبائومائنٹ بدھ لیڈر، مانگ تونگ پیشوابدھ مذہب، جارج برنارڈ شاہ، رابندر ناتھ، ٹیگور، ایس مارگولیوتھ، مسٹر سکاٹ، جارج سیل، کونسٹن ورجیل جارجیو، کرنل سائلس، شیو پرساد، وہبی لکھنوی، رگھوناتھ خطیب سرحدی، جوش ملیسانی، تلوک چند محروم، نریش کمار شاد، ویاشنکر نسیم، وعزت سنگھ عیش دہلوی ، پنڈت ہری چندر اختر، نردیو سنگھ اشک دہلوی،بی ڈٰ اہلیہ بوڑ سنگھ، رام پیار لکھنوی، اروڑہ رائے، سالک رام سالک ، شنکر لال ساقی، کنور مہندر سنگھ، بیدی سحر، سردار شیر سنگھ شمیم، بابا افضل کاشی، لالہ شنکر داس جی، فراق گھورکھپوری اور ان کے علاوہ بھی سینکڑوں غیر مسلم شخصیات شامل ہیں، غور فرمائیے کہ دنیا کے مخالفین اور نقاد بھی رسول کریمe کی حیات مبارکہ کا جائزہ لینے کے باوجود ان کی ذات مبارکہ میں کوئی خامی تلاش کرنے سے قاصر رہے بلکہ ان کی تعریف و توصیف پر مجبور ہوگئے، بلاشبہ حب رسول e ہی کسی مومن کا اثاثہ ہے کیوں کہ یہ بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ کسی مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا کہ جب تک رسول کریم e کی محبت ہر چیز اور رشتہ سے بلند مقام پر سرفراز نہ ہو۔

یہ پڑھیں:  قرآن حکیم اور اطاعت رسولﷺ

مندرجہ بالا الفاظ اور اظہار بیاں غیرمسلموں کا ہے جو رسول کریم e کی ذات بابرکت کے اوصاف کی مدح سرائی پر مجبور ہوگئے ، جبکہ خالق کائنات خو دآپ eکی شان بارے قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے، جس کے بعد کسی بھی سند کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ

’’یقینا تمہارے لئے رسول اللہe (کی ذات) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘ (الاحزاب)

رسول اللہ e کا ارشاد پاک ہے کہ

’’اللہ نے اسماعیل ؑ کی اولاد سے کنا نہ کو کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو پسند فرمایا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چن لیا۔‘‘ (مشکوٰۃ)

اللہ پاک خود نبی کریم eکی شان رسالت بارے قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ

’’وہی ہے جس نے اپنے رسول e کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے، اور اللہ تعالیٰ کافی ہے گواہی دینے والا۔‘‘ (الفتح: ۲۸)

ایک اور مقام پر فرمایا گیا کہ

’’(اے محمد!) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی۔‘‘ (البقرہ: ۱۱۹)

یہ پڑھیں:  قیام امن سیرت طیبہ کی روشنی میں

یہاں آپ e کی نبوت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ آپ e کا کام صرف اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دینا ہے، اب اگر لوگ ایمان نہیں لاتے اور دوزخ کے مستحق ٹھہرتے ہیں تو اس سلسلہ میں آپ e پر کچھ الزام نہیں۔

بلاشبہ آپ e رحمت اللعالمین ہیں اور اس کی گواہی خود خالق کائنات دے رہا ہے کہ

’’اور ہم نے آپeکو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (الانبیاء: ۱۰۷)

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا کہ

’’بیشک (اے نبی!) ہم نے آپ eکو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے۔‘‘ (محمد: ۱)

آپ e کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ

’’یقینا ہم نے تجھے (حوض) کوثر (اور بہت کچھ) دیا ہے‘‘ (الکوثر: ۱)

قرآن کریم میں رسول کریم e کی عظمت بارے متعدد مقام پر ارشادات الٰہی موجود ہیں ایک اور جگہ فرمایا گیا کہ

’’ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا۔‘‘ (الشرح: ۴)

یعنی پیغمبروں اور فرشتوں میں آپ e کا نام بلند ہے، دنیا میں تمام سمجھدار انسان نہایت عزت و وقعت سے آپe کا ذکر کرتے ہیں، غور فرمائیے کہ اذان، اقامت، خطبہ، کلمہ طیبہ اور التحیات وغیرہ میں اللہ کے نام کے بعد آپ e کا نام لیا جاتا ہے اور خدا نے جہاں بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہیں ساتھ، ساتھ آپe کی فرمانبرداری کی تاکید کی ہے۔

یہ پڑھیں:  سیرت النبی ﷺ اور واضح کامیابی

لطف کی بات یہ ہے کہ یہ پیشین گوئی اللہ تعالیٰ نے اس وقت کی تھی جب مکہ کے لوگوں کے علاوہ آپ eکو کوئی جانتا تک نہ تھا اور وہ بھی آپ eکے دشمن اور آپ e کی ہستی کو دنیا سے ختم کر دینے پر تلے ہوئے تھے، قرآن کی یہ پیشینگوئی خود قرآن کی صداقت پر کھلا ہوا ثبوت ہے، اس وقت کون یہ اندازہ کرسکتا تھا کہ آپ eکا ذکر خیر اس شان کے ساتھ اور اتنے وسیع پیمانے پر ہوگا کہ حاسدین بھی مفلوج ہو کر رہ جائیں گے۔


No comments:

Post a Comment

Pages