شعائر اسلام کی توہین کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, November 14, 2020

شعائر اسلام کی توہین کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اھلحدیث, اہل حدیث, اہلحدیث, شعائر اسلام کی توہین کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی: پروفیسر ساجد میر,


شعائر اسلام کی توہین کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی: پروفیسر ساجد میر

 

ہم امن کے داعی ہیں‘مذہبی منافرت ملک کیلئے زہر قاتل ہے‘ مذہبی رہنماؤں کو بازاری زبان زیب نہیں دیتی

مذہبی جنونیت انتہا پسند کلچر کا شاخسانہ ہے جو فرقہ وارانہ نصاب کی وجہ سے پروان چڑھ رہا ہے:  خطبہ جمعہ کے اجتماع سے خطاب

 

لاہور ( م س)  مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ ’’شعائر اسلام کی توہین کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ خادم رضوی اپنی ویڈیو کی وضاحت کریں ورنہ ہم قانونی راستہ اختیار کریں گے۔ ہم امن کے داعی ہیں، اشتعال انگیزی اور مذہبی منافرت ملک کے لیے زہر قاتل ہے۔ مذہبی راہنماؤں کو غیر شائستہ اور بازاری زبان زیب نہیں دیتی۔اذان کی بے ادبی اور بے حرمتی کرکے خادم رضوی نے ہر مسلمان کا دل دکھایا ہے۔مخالفت میں اخلاقی حدود کو پامال کرناکہاں کی دین داری ہے؟‘‘

یہ پڑھیں:  قوم رو نہیں رہی‘ بلکہ چیخیں مار رہی ہے

اس امر کا اظہار انہوں نے جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ ’’مذہبی راہنماؤں کو تبلیغ دین کے اصول نہیں بھولنے چاہیے۔ قرآن اور سیرت کی بنیادی تعلیمات سے مکمل انحراف کی بناء پر ہم انتہا پسندی اور عدم برداشت کا شکار ہوئے ہیں۔ اسلام کو قرآن اور سیرت کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے قرآن ترجمے سے پڑھ کر اور سیرت کا مطالعہ کرکے ہی ہم اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھ سکتے ہیں اور اس پر عمل کرکے اپنے سماج کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ قرآن ہی ہمارا محور و مرکز اور ہدایت کا بنیادی سورس ہونا چاہیے ماور ائے قرآن رویے اور نظریے ہمارے لئے گمراہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ قرآن اچھی گفتگو اور نرم لہجے کی تلقین کرتا ہے۔اللہ نے اپنے رسول ﷺ  کو سخت زبان استعمال کرنے اور عدم برداشت کی اجازت نہیں دی اللہ کے بندے انتہا پسندی کے مرتکب کیسے ہو سکتے ہیں اور انتہا پسند عاشق رسول ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں۔ اللہ نے قرآن میں فتنہ فساد کو قتل سے زیادہ برا قرار دیا ہے۔قرآن کی واضح آیات کی روشنی میں ایک مسلمان کسی صورت انتہا پسند نہیں ہو سکتا جو لوگ انتہا پسندی کا شکار ہیں وہ قرآن و سیرت کی روشنی میں اپنی اصلاح کرکے توبہ کریں۔‘‘

یہ پڑھیں:  صرف نکاح ہی تو مسنون تھا

پروفیسر ساجدمیر نے کہا کہ ’’قرآن کے مطابق عفو، در گذر اور برداشت اسلام کے سنہری اصول ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے برداشت کے اعلیٰ نمونے پیش کیے۔ مکہ کے کفار نے ان کو اذیتیں دیں اور توہین کے مرتکب ہوئے مگر آپ ﷺ نے اکثر اوقات اپنے صحابہ کو صبر، تحمل اور برداشت کا سبق دیا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ مذہبی جنونیت انتہاء پسند کلچر کا شاخسانہ ہے جو فرقہ وارانہ نصاب کی وجہ سے پروان چڑھ رہا ہے۔

 

No comments:

Post a Comment

Pages