لاک ڈاؤن ... نجی سکولوں کے اساتذہ کی پریشانی - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 20, 2020

لاک ڈاؤن ... نجی سکولوں کے اساتذہ کی پریشانی

ھفت روزہ, ہفت روزہ, اھل حدیث, اہل حدیث, اھلحدیث, اہلحدیث, لاک ڈاؤن, نجی سکولوں کے اساتذہ, اساتذہ کی پریشانی,


لاک ڈاؤن ... نجی سکولوں کے اساتذہ کی پریشانی

تحریر: جناب مولانا محمد بلال ربانی (سیالکوٹی)

ہمارے ملک میں 50فیصد سے زائد تعلیم کا بوجھ پرائیویٹ سیکٹر پر ہے تعلیمی ادارے بند کرنے کا مطلب ان ماہرین تعلیم کا معاشی قتل ہے جو پرائیویٹ سطح پر تعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں اور یہی وہ مظلوم طبقہ ہے جس کے لیے ہماری حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں پچھلے لاک ڈاؤن میں ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ زندگی کا ہر شعبہ رواں رہا اگر کسی مقام پر تعطل آیا بھی تو اس کا حل بھی تلاش کرلیا گیا کسی نے قطار میں لگ کے راشن لے لیا تو کوئی بیلچہ کسی لے کے مزدور کا روپ لیے سڑک پر آکھڑا ہوا لیکن پرائیویٹ سیکٹر پر تعلیمی اداروں سے منسلک اساتذہ کو فاقے کاٹنے پڑے۔

یہ مضمون پڑھیں:        صرف نکاح ہی مسنون تھا

ہم جس قدر اساتذہ کی زندگی آسان سمجھتے ہیں بظاہر اس قدر ان کی زندگی کے شب و روز آسان نہیں ہیں بندہ مزدور کے اوقات اگرچہ مشکل سے گزرتے ہیں لیکن موجودہ دور میں پرائیویٹ سطح پر تعلیم کے شعبے سے منسلک لوگوں کی گزران کسی طور پر بھی بیلچہ پکڑے کھڑے مزدور سے مختلف نہیں ہے۔ اشفاق صاحب جیسے بڑے ادیبوں کی نگارشات سے ہمیں یہ معلوم پڑا ہے کہ ترقی یافتہ قومیں اساتذہ کی اس انتہا کی قدر دان ہیں کہ عدالتوں میں براجمان منصفین بھی اساتذہ کے اعزاز میں کھڑے ہوجاتے ہیں حتی کہ برطانیہ کی ملکہ ملاقاتیوں کی فہرست میں اساتذہ کو خصوصی ترجیح دیتی ہیں ہمارے ہاں بھی پرائیویٹ سطح پر تعلیم و تعلم کے مشن کی آبیاری میں مصروف اساتذہ بھی اگر کچھ کماتے ہیں تو وہ یہی عزت ہے ۔

میں اپنی اس نسل کے اساتذہ کو والدین سے بھی زیادہ کسی بھی قسم کے مفاد سے مبرا جانتا ہوں کہ جو اپنا سب کچھ نچوڑ کے ہماری اس نسل کی آبیاری کے لیے اس کی جڑوں میں ڈال رہے ہیں تو ساتھ ہی کسی مفاد کی تکمیل کے روادار نہیں پچھلے لاک ڈاؤن میں تو ہماری اس نسل کے معمار اپنی سفید پوشی میں رہے شاید اب بھی کچھ اسی انداز میں یہ گزران کر جائیں لیکن حکومت کی ان پالیسیوں نے میری نسل کے اساتذہ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے وہ کہ جن کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب ہے مجھے لگتا ہے حکومت کی کورونا سائنس کے نتیجے میں اب ان کے ہاتھوں میں قلم کتاب نہیں بلکہ کسی اور بیلچہ ہوگا اور وہ کسی مزدوروں والے اڈے پر کھڑے ہوں گے اور اپنی آئندہ نسل کو اپنے تعلیم اور ڈگریوں کے قصے سنا رہے ہوں گے۔

یہ مضمون پڑھیں:        قوم رو نہیں رہی، بلکہ چیخیں مار رہی ہے

میں خود ایک نجی تعلیمی ادارے میں مصروف عمل ہوں میرے ساتھ کام کرنے والے زیادہ تر نوجوان اساتذہ ہیں جو اپنے والدین پر بوجھ نہیں بننا چاہتے اور تعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں جس سے وہ اپنے تعلیمی اخراجات با آسانی پورے کررہے ہیں لیکن گزشتہ چند روز سے میں نے ان جوانوں کو متفکر پایا ہے ۔

پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ہمارے ہاں رائے عامہ یہی پائی گئی ہے کہ پرائیویٹ سکول کمائی کا بہترین ذریعہ ہیں اس بات میں شبہ نہیں ہے۔ لیکن جب یہ رائے قائم  کی جاتی ہے تو پھر ساتھ اس امر پر غور کرنا ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ہاں اکثر تعلیمی ادارے ایسے ہیں کہ جو کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں شہری علاقوں میں ان عمارتوں کے کرائے ماہوار لاکھوں میں ہیں گذشتہ کئی ماہ کے لاک ڈاؤن میں جیسے تیسے یہ ادارے قائم رہے اب کی بار اگر لاک ڈاؤن لگا اور لمبی مدت کے لیے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بندش ہوئی تو ان میں سے کئی کے خاتمے کا باعث ہوگی۔ سرمایہ دار مالکان تو شاید خود کو بچا لیں لیکن کیا ہمارے پالیسی سازوں نے سوچا ہے ان کا کیا بنے گا جنہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا ہی اس مقدس فریضے کو سمجھا ہے ؟

یہ مضمون پڑھیں:        جگر چھلنی چھلنی ہے

تعلیمی ادارے بند کرتے ہو کرو لیکن اے ہمارے حکمرانو! تم نے تو کہا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے یہ کیسی ماں ہے جو اپنے ان تعلیم یافتہ بچوں کے لیے کوئی پالیسی نہیں رکھتی؟ مجھے علم ہے ہمارا یہ درد دل یہیں اخبارات اور سوشل میڈیا کی نذر ہو کر رہ جائے گا یہ سمجھتے ہوئے کہ اس نقار خانے میں ہماری یہ صدا بصحرا ثابت ہوگی لیکن پھر بھی اس سمندر میں اپنے جذبات کو ڈال دیا ہے شاید کہ ان کو کنارا مل جائے۔

 

No comments:

Post a Comment

Pages