قوم رو نہیں، بلکہ چیخیں ما رہی ہے 26-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, November 13, 2020

قوم رو نہیں، بلکہ چیخیں ما رہی ہے 26-20

ھفت روزہ, اھل حدیث, اھلحدیث, اہل حدیث, اہلحدیث, قوم رو نہیں، بلکہ چیخیں ما رہی ہے,
 

قوم رو نہیں، بلکہ چیخیں ما رہی ہے

 

تحریر: جناب مولانا عبدالرحمن ثاقب (سکھر)

آج میڈیکل مارکیٹ یا میڈیکل اسٹورز پر جا کر کوئی غریب کی آہ و فغاں سنے۔ عمران نیازی نے تو پاکستان کا وزیراعظم بننے سے پہلے کہا تھا کہ میں انہیں رلاؤں گا۔ قوم خاموشی سے رو ہی نہیں رہی بلکہ ان کی چیخیں نکل رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے حکمران تو اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کے بعد اندھے اور بہرے ہو ہی جاتے ہیں یہاں تو حزب اختلاف کے لوگ بھی حکمرانوں کے ہمنوا نظر آتے ہیں اور ملک کا میڈیا بھی اس معاملے میں حکومت کا مکمل ساتھ دے رہا ہے۔ عوام کو نان ایشوز میں الجھانا تو کوئی ان الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سے سیکھے۔ جو غریب عوام کی پریشانیوں اور مشکلات کے ایشوز کو اٹھانے اور مہنگائی پر پروگرام کرنے کی بجائے صرف حکمران طبقہ اور ان کے مخالفین کو آپس میں خوب لڑاتے اور طرفین سے داد و تحسین وصول کرتے ہیں۔

یہ پڑھیں:  بھارت کی بربریت اور دنیا کی خاموشی

کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ جو برسراقتدار لوگوں کے سامنے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، عوام کی ختم ہوتی ہوئی قوت خرید، ڈوبتی ہوئی معیشت، آہ و بکا کرتے عوام کی حالت زار، حکمرانوں کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دیتے ہوئے عوام کو دکھاسکے۔

عمران نیازی نے جو کہا تھا کہ میں انہیں رلاؤں گا‘ بات اب رونے تک محدود نہیں رہی بلکہ اگر آپ بازار سے آٹا، چینی، گھر کا سودا سلف، اپنی یا بوڑھے والدین کی ادویات خریدنے جائیں‘ بجلی اور گیس کے بل جب گھر کی دہلیز پر ملیں تو یوٹیلٹی بلز دیکھ کر انسان کا دھاڑیں مار مار کر رونے کو جی چاہتا ہے۔ وہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ گھریلو ضروریات کا سودا سامان خریدے، ادویات خریدے، بچوں کی اسکول کی فیسیں جمع کروائے یا بجلی گیس وغیرہ کے بلز جمع کروائے۔ نئے نئے کپڑے خریدنا اور پہننا غریب کے بعد اب متوسط طبقے کا بھی خواب بنتا جارہا ہے۔ ہر دن اور ہر مہینے یہی سوچ و بچار کرتے ہوئے زندگی بسر کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

بیروزگاری بڑھ چکی ہے، مہنگائی بہت زیادہ بڑھ جانے سے کاروبار متاثر ہوچکے ہیں چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر اور دکان دار پریشان بیٹھے ہیں۔ لیکن حکمرانوں کو ہر طرف سے ہر چیز درست کی رپورٹیں مل رہی ہیں کیونکہ اس طبقہ نے نہ کوئی چیز خریدنی ہے، نہ بل ادا کرنے ہیں بلکہ ان کے سارے اخراجات اٹھانے والے موجود ہوتے ہیں اور ان کا خمیازہ بھی غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

مفت طبی سہولیات مرحلہ وار ختم کرنے کے بعد ان کی قیمتوں میں بھی خوب اضافے کردیے گئے ہیں تا کہ طبی سہولیات نہ ملنے یا بہت زیادہ مہنگی ہونے کی وجہ سے عوام کو جب کچھ بھی نہ ملے گا تو وہ خود بخود ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجائیں گے۔ عوام کی تعداد اس طرح سے کم ہوتی چلی جائے گی اور حکمرانی کرنے میں آسانی پیدا ہوجائے گی۔

یہ پڑھیں:  ریاست مدینہ کا ہلکا سا تقابل

انصاف صحت کارڈ وغیرہ کا بھی خوب ڈرامہ کیا گیا اور عوام کو بیوقوف بنایا گیا۔ غریب عوام اب بھی در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور دوائی کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ملک میں کتنے غریب عوام ہیں اور کتنوں کو یہ صحت کارڈ ملے ہیں۔ یا یہ بھی اپر اور ایلیٹ کلاس کے لیے منصوبہ تھا لہٰذا غریب عوام کا اس پر کوئی حق نہیں‘ لہٰذا وہ اس بارے سوچنا ہی چھوڑ دے۔

حکمران اگر غریب عوام سے چھٹکارا پانے کی خواہش رکھتے ہیں تو اس کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ جہاں جہاں ملک میں غریب عوام کی بستیاں ہیں وہاں اور غریبوں کے ہسپتالوں پر بم باری کرکے ان کو ایک ہی دفعہ ختم کردے تا کہ نہ کوئی غریب رہے اور نہ ہی کوئی مریض اور بیمار باقی ہو جو آہ و زاریاں کرے اور حکمران طبقہ کو بددعائیں دے۔

حکمرانوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے ان ذمہ داریوں سے راہ فرار کا آسان طریقہ یہ تلاش کرلیا کہ جو چیز بھی بازار میں دستیاب نہ ہو یا اس کی سپلائی مافیا نے جان بوجھ کر بند کردی ہو بجائے اس کے ان اسباب پر غور کیا جائے اور فوری کارروائی کرکے وہ چیز عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جائے‘ فوری طور پر مافیا کا مطالبہ تسلیم کرو اور اور مافیاز سے اپنا حصہ وصول کرکے انہیں من مانی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دے دو۔ کیونکہ جو بھی اضافی رقم غریب عوام کی جیبوں سے نکلنی ہے وہ رقم کونسی ان کی جیبوں سے جانی ہے بلکہ انہیں تو حصہ بقدر جثہ مل جانا ہے۔ ان کے لیے تو آم کے آم گٹھلیوں کے دام والی بات ہوتی ہے۔

یہ پڑھیں:  تحفظ شعائر اسلام سیمینار

حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی سوچ لینا چاہیے کہ جب تک وہ عوام کے حقیقی مسائل پر آواز نہیں اٹھائیں گے تب تک عوام بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔ عوام بادی النظر میں یہ سمجھ رہے ہیں کہ حزب اختلاف کا شور شرابہ خود کو بچانے کے لیے ہے اور عوام کو لوٹنے میں وہ حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔


No comments:

Post a Comment

Pages